فیکٹ چیک: گجرات پولیس کا شرپسندوں کی پٹائی کا ویڈیو گمراہ کن دعوے کےساتھ وائرل
سوشل میڈیا پر پولیس کی جانب سے نوجوان کی پٹائی کا ویڈیو یہ کہہ کر وائرل کیا جارہا ہیکہ پونے کی پولیس نے شرپسندوں کو اچھی طرح سبق سکھایا ہے۔

Claim :
پونے کی پولیس نے شرپسندوں کو اچھا سبق سکھایاFact :
پولیس کی پٹائی کا ویڈیو احمدآباد کا ہے پونے کا نہیں
وبئی میں ٹیم انڈیا کی جانب سے نیوزی لینڈ کوہراکر چئمپینس ٹروفی جیتنے پر بھارت بھر میں جشن منایا گیا گیا۔ لوگوں کو سڑکوں پر جشن کی ریلیاں نکالتے ہوئے اور ٹیم کی کامیابی پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
پونے شہر میں بھی کرکٹ شائقین کا جم غفیر سڑکوں پر نکل آیا اور عوام کوفیرگوسن کالج روڈ پر ہاتھوں میں پرچم تھامے ٹیم انڈیا کی کامیابی کا جشن مناتے ہوئے پایا گیا۔ اس جشن کے ماحول میں نشے کی حالت میں ہنگامہ آرائی پر پولیس نے ایک نوجوان کو بے رحمی سے پیٹا اور یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوا۔
اس درمیان، سوشل میڈیا پر پولیس کی جانب سے دن دہاڑے ایک اور نوجوان کو لاٹھیوں سے زدوکوب کرنے کا ایک اور ویڈیو بڑے پیمانے پر وائرل کیا جارہا ہے۔ یوٹیوب کے Khozmaster News چینل پر اپلوڈ کردہ اس ویڈیو کےساتھ شامل مراٹھی کیپشن میں کہا گیا ہیکہ 'پونے کی پولیس نے غنڈہ عناصر کو اس طرح دھویا۔' [ गुंडांची अशी जिरवली पुणे पोलिसांनी ]
وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور اسکرین شاٹ نیچے ملاحظہ کریں۔
فیکٹ چیک:
تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ میں کئے گئے دعوے کی جانچ پڑتال میں پایا کہ یہ ویڈیو پونے شہر نہیں بلکہ گجرات کا ہے۔
ہم نے اپنی جانچ پڑتال کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے وائرل ویڈیو کے کلیدی فریمس اخذ کئے اور انکی مدد سے گوگل ریورس امیج سرچ کیا تو ہمیں 'دی فری پریس جرنل' نامی انگریزی نیوز پورٹل کا 15 مارچ 2025 کا مضمون ملا۔
اس آرٹیکل میں بتایا گیا ہیکہ '13 مارچ یعنی جمعرات کے روز احمدآباد کے وسترل علاقہ میں تلواروں اور لاٹھیوں سے راہ چلتے لوگوں پر مبینہ حملہ کرنے کے سلسلے میں کم از کم 14 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔"
مضمون میں احمدآباد پولیس کی جانب سے پرتشدد واقعہ کا وائرل ویڈیو شئِیر کیا گیا ہے۔ ویڈیو یہاں دیکھیں،۔
'دکن ہیرالڈ' کے مطابق، پولیس کی ابتدائی جانچ سے معلوم ہوا کہ وسترل علاقہ میں فوڈ اسٹال کھولے جانے پر دو گروہوں کے بیچ جاری دشمنی تشدد کی شکل اختیار کرگئی۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس بالدیو دیسائی کے مطابق، علاقہ میں فوڈ اسٹال کھولنے سے روکنے پر پنکج بھاوسر نامی شخص کو اپنے حریف سنگرام سیکرور سے ناراضگی تھی۔
"جب انہیں پتہ چلا کہ سیکرور کچھ دن پہلے جیل سے باہر آیا ہے تو بھاوسر نے رات میں اس پر حملہ کرنے کے لئے اپنے آدمیوں کو بھیجا۔ لیکن اس وقت سیکرور وہاں موجود نہیں تھا،اور اس گروپ نے لوگوں اور گاڑیوں پر اندھا دھند حملہ کرکے اپنی برہمی ظاہر کی،" ڈی سی پی نے کہا۔
'زی نیوز' نے اپنے یوٹیوب چینل پر اس واقعہ کو رپورٹ کرتے ہوئے لکھتا ہے، "احمد آباد میں فساد کرنے والے افراد کی پٹائی کی گئی۔ پولیس نے ملزمین کے گھروں کے باہر ان پر لاٹھیاں برسائیں۔ فسادیوں کے گھروں پر بلڈوزر چلانے کی تیاری چل رہی ہے۔ 3 ملزمان کے گھروں پر بلڈوزر چلایا گیا۔"
مذکورہ بالا میڈیا رپورٹس اور جانچ پڑتال سے یہ واضح ہوگیا کہ نوجوان پر پولیس کی لاٹھیاں برسائے جانے کا یہ ویڈیو گجرات کے احمد آباد شہر کا ہے نہ پونے کا۔ لہذا، وائرل پوسٹ میں کیا گیا دعویٰ گمراہ کن پایا گیا۔