Explainer:رمضان کے نام پر ڈیجیٹل والیٹس کو بنایا جارہا ہے نشانہ، جعلی عطیات اور کرپٹو اسکیموں سے رہیں ہوشیار
سائبر مجرم رمضان کے جذبۂ سخاوت کاناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی کرپٹو گِیو اویز، عطیات کے فراڈ اور جعلی فروخت کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ ایک نئی رپورٹ میں AI سے تیار کردہ دھوکہ دہی اور فریب دہی کی حکمت عملیوں کو بے نقاب کیا گیا ہے;

آرٹیفیشل انٹلی جنس پر مبنی سائبر سیکورٹی کمپنی CloudSEK کی ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہیکہ سائبر مجرمین اس مہینے میں کریپٹو کا تحفہ دینے اور جعلی خیراتی مہم جیسے دھوکہ دہی اعلانات کے ذریعے معصوم عطیہ دہندگان کو دھوکہ دے رہے ہیں۔
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہیکہ ویری فائیڈ بیاج کے ساتھ سوشل میڈیا پر اے۔ آئی کے ذریعے تیار کردہ تشہیری پروگرام چلارہے ہیں اور ایسی فرضی مہم کا پتہ لگانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ ریسرچ کے دوران پتہ چلا ہیکہ اس مہینے میں ' Ramadan AI ' نام کا ایک دھوکہ دہی دینے والا پلیٹ فارم چلایا جارہا ہے جس پر جھوٹا دعویٰ کیا جارہا ہیکہ پلیٹ فارم پر دینی سرگرمیوں میں حصہ لیکر صارفین کریپٹو ریوارڈس حاصل کرسکتے ہیں۔
سائبر سیکورٹی کمپنی CloudSEK کی ایک رپورٹ کے مطابق، "رمضان کا مطلب نیکی اور صدقات کی ادائیگی ہے، اور یہی وجہ ہیکہ سائبر مجرم اس مہینے میں مسلمانوں کو ٹھگنے کا کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ مذہبی جذبات کا فائدہ اٹھا کر معصوم عطیہ دہندگان اور سرمایہ کاروں کو دھوکہ دہی کی اسکیموں میں پھنساکرانکے ڈیجیٹل والیٹس سے رقوم اور حساس مالیاتی معلومات چوری کررہے ہیں۔"
کرپٹو گیو اوے کے اسکام میں اضافہ
بھارت میں کرپٹو کرنسی کا رجحان بڑھنے کے ساتھ ہی، دھوکہ باز رمضان کی برکتوں کے نام پر جعلی کرپٹو گیو اوے جیسی مہم چلا رہے ہیں۔ یہ اسکیمیں مفت بٹ کوائن، ایتھریم، یا اسلامی تھیم والے ٹوکن دینے کا وعدہ کرتی ہیں لیکن ان کا مقصد لوگوں کے الیکڑانی بٹوے خالی کرنا ہے۔
یہ اسکیم کیسے کام کرتی ہے؟
-رمضان کے دوران اسکیامرز فری کریپٹو انعامات دینے کی پیشکش کرتے ہوئے ٹوئٹر، ٹیلی گرام اور انسٹاگرام پر اشتہارات پوسٹ کرتے ہیں۔
-انعام حاصل کرنے کے لیے متاثرین کو اپنی کرپٹو والیٹس منسلک کرنے کو کہا جاتا ہے۔
-جیسے ہی متاثرہ شخص ٹرانزیکشن کی اجازت دیتا ہے، اسکیامرز، اس کے والیٹ کا بیلنس اپنے اکاونٹ میں ٹرانسفر کرلیتے ہیں۔
خود کو کیسے بچائیں؟
-اپنی کرپٹو والیٹ کو کبھی بھی غیر تصدیق شدہ ویب سائٹس سے نہ جوڑیں۔
-غیر معمولی اور ناقابل یقین پیشکشوں سے محتاط رہیں، کیوں کہ حقیقی گیو اوے اسکیمیں کبھی بھی نجی والیٹ کا ایکسیس نہیں مانگتے۔
-اپنے فنڈز کو محفوظ رکھنے کے لیے کولڈ والیٹ کا استعمال کریں۔
ماہ رمضان میں بہت سے لوگ غریب اور مستحق افراد کی مدد کے لیے خیراتی اداروں اور این جی اوز کو عطیات دینا پسند کرتے ہیں۔
لیکن اسکیامرس جعلی ڈونیشن ویب سائٹس بناکر یا خود کو واٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک پر مستند تنظیموں کا نمائندہ بتاکر عطیات کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یہ اسکیم کیسے کام کرتی ہے؟
-متاثرین کو ایسے پیغامات موصول ہوتے ہیں جن میں افطار کے انتظام کیلئے، یتیموں کی مدد یا طبی امداد کے لیے عطیہ دینے کی اپیل کی جاتی ہے۔
-معروف این جی اوز کے یو آر ایل جیسے نظر آنے والے یہ لنکس متاثرین کو جعلی ویب سائٹس پر پہنچادیتے ہیں۔
-ان پلیٹ فارمز پر کیے گئے عطیات براہ راست اسکیامرس کے اکاؤنٹس میں جمع ہوتے ہیں۔
خود کو کیسے بچائیں؟
-خیراتی ادارے کی تفصیلات ہمیشہ اس کی سرکاری ویب سائٹ پر چیک کریں۔
-UPI، بینک ٹرانسفر یا ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے عطیہ کرنے سے پہلے دی گئی معلومات کی تصدیق کریں۔
-کسی بھی سوشل میڈیا پوسٹ یا غیر تصدیق شدہ لنکس کے ذریعے عطیہ دینے سے گریز کریں۔
بہت سے ای کامرس کے ذریعے اسکام کرنے والے سائبر مجرمین جعلی ویب سائٹس بناکرعید کی خریداری کے لیے ملبوسات، عطریات اور گھریلو سجاوٹ پر بھاری رعایت (ڈسکاؤنٹ) دینے کا دعویٰ کرتیےہیں۔ ان دھوکہ دہی کی اسکیموں کو سچ مان کر صارف آن لان پیمنٹ کر تو دیتے ہیں لیکن انہیں کوئی پراڈکٹ ڈیلیور نہیں کیا جاتا۔
یہ اسکیم کیسے کام کرتی ہے؟
-گوگل، فیس بک اور انسٹاگرام پر جعلی ویب سائٹس کے اشتہارات کے ذریعے خریداروں کو پریمیئم برانڈز پر 70-80 فیصد تک رعایت دئے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
-متاثرین UPI، کریڈٹ کارڈ یا نیٹ بینکنگ کے ذریعے ادائیگی کرتے ہیں، لیکن انہیں آرڈر کی گئی چیز کبھی نہیں پہنچائی جاتی۔
-اس طرح چند دھوکے باز خریداروں کی بینکنگ تفصیلات چوری کر لیتے ہیں تاکہ وہ انہیں مزید دھوکہ دے سکیں۔
خود کو کیسے بچائیں؟
-صرف مستند آن لائن ریٹیلرز جیسے کہ امیزان، فلپ کارٹ یا آفیشل برانڈ کی ویب سائٹس سے خریداری کریں۔
-مشکوک اشتہارات سے بچیں کیوں کہ ان لنکس پر کلک کرنے سے آپ نامعلوم شاپنگ سائٹس پر انجانے میں خریداری کرسکتے ہیں۔
-حتی الامکان، کیش آن ڈلیوری کا آپشن استعمال کریں۔
جعلی زکاۃ یا رمضان گِیو اوے کی اسکیم چلانے کیلئے اسکیامرس تصدیق شدہ (ویریفائیڈ) سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کرتے ہیں۔ خریداروں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے وہ بلیو ٹِک کا استعمال کرتے ہیں اور AI سے تیار کردہ تعریفی شہادتیں اپلوڈ کرکے خود کو حقیقی پلیٹ فارم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ اسکیم کیسے کام کرتی ہے؟
-متاثرین کو براہ راست پیغامات موصول ہوتے ہیں یا وہ ایسے انفلوئنسرز کی پوسٹس دیکھتے ہیں جو رمضان کے مقابلے (کانٹیسٹ) کو فروغ دیتے ہیں۔
-انہیں ذاتی تفصیلات فراہم کرنے یا بڑے انعامات حاصل کرنے کے لیے معمولی رقم ادا کرنے کو کہا جاتا ہے۔
-یہ تفصیلات آئیڈنٹیٹی تھیفٹ یا مالیاتی فراڈ کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
خود کو کیسے بچائیں؟
-کسی بھی گیو اوے میں حصہ لینے سے پہلے اس کے ذرائع کی تصدیق کریں۔
-بینک کی تفصیلات، OTP یا ذاتی معلومات کسی نامعلوم اکاؤنٹ کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
-جعلی ویب صفحات کو سائبر کرائم پورٹل (cybercrime.gov.in) پر رپورٹ کریں۔
اگر آپ کو کسی دھوکہ دہی کا شبہ ہو یا آپ اس کا شکار ہو جائیں تو فوری حکام کو مطلع کریں:
-فراڈ ویب سائٹس یا فشنگ حملے کو CERT-In (Indian Computer Emergency Response Team) پر رپورٹ کریں۔
-نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل (www.cybercrime.gov.in) پر شکایت درج کریں۔
اگر آپ اپنے بنک کھاتے کے اسٹیٹمنٹ میں کوئی غیر مجاز ٹرانزیکشن نوٹس کریں تو فوری طور پر اپنی بینک کے حکام سے رابطہ کریں۔