فیکٹ چیک: ناگپور تشدد کے دوران آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار کی افطار پارٹی میں شرکت کی جانئے پوری حقیقت
سوشل میڈیا پرآر ایس ایس لیڈر اندریش کمار کی افطار پارٹی میں شرکت کی دو دن قبل کی تصویر شئیر کرتے ہوئے دعویٰ کیا جارہا ہیکہ شہر میں تشدد کے دوران آر ایس ایس لیڈر مسلم لیڈروں کے ساتھ افطار کررہے تھے;

تشدد پھوٹ پڑنے کے 6 دن بعد مہاراشٹرا کے ناگپور سے پوری طرح کرفیو ہٹالیا گیا۔ 17 مارچ 2025 کو، ہندو تنظیمیں وی ایچ پی اور بجرنگ دل کی جانب سے چھتراپتی سامبھاجی نگر ضلع میں مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے مقبرہ کو مسمار کرنے کے پرزور احتجاج کے دوران قرآنی آیتوں سے کندہ کی ہوئی چادر کو جلائے جانے کی افواہوں کے بیچ ہجوم کی طرف سے تباہی مچائی گئی تھی جس کے بعد کوتوالی، گنیش پیٹھ، تحصیل، لکڑ گنج، پچپاؤلی، شانتی نگر، سکردرا، نندن ون، امام باڑہ، یشودھرا نگر اور کپل نگر پولیس اسٹیشن کی حدود میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔
اس تشدد میں عرفان انصاری نامی شخص کی موت اور ڈی سی پی رینک کے تین پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے تشدد کی کارروائی میں ملوث 100 سے زائد ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ دیوندر فڑنویس نے کہا کہ حکومت فساد مچانے والوں سے پراپرٹی کا نقصان وصول کریگی اور ضرورت پڑے تو انکے مکانات پر بلڈوزر چلائے گی۔
اس درمیان سوشل میڈیا پر آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار کا مسلم اور دیگر رہنماوں کے ساتھ افطار پارٹی کی تصویر بڑے پیمانے پر شئیر کرتے ہوئے دعویٰ کیا جارہا ہیکہ 'جس رات ناگپور میں ہندووں کے گھرو٘ں اور گاڑیوں کو چن چن کر کہ جلایا جارہا تھا، اس رات آر ایس ایس کے اندریش کمار مسلمانوں کا جھوٹا کھجور چاٹ رہے تھے۔'
ہندی میں دعویٰ:
जिस रात नागपुर मे हिन्दुओ के घरो और गाड़ियों क़ो चिन्हित कर के जलाया जा रहा था। उस रात rss के इंद्रेश कुमार मुल्लों के झूठे खजूर चाट रहे थे
فیکٹ چیک:
تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے اپنی جانچ پڑتال کے دوران پایا کہ اندریش کمار کی افطار پارٹی میں شرکت کی تصویر ناگپور میں تشدد پھوٹ پڑنے سے دو روز پہلے کی ہے اور سوشل میڈِیا میں اسے فرضی دعوے کے ساتھ شئیر کیا جارہا ہے۔
وائرل ویڈیو میں ہمیں، مسلم راشٹریہ منچ کے رہنما ڈاکٹر اندریش کمار کے ہمراہ آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے سربراہ ڈاکٹر عمیر احمد الیاسی بھی نظر آتے ہیں۔ جب ہم نے 'ڈاکٹر عمیر احمد الیاسی' جیسے موزوں الفاظ سے گوگل سرچ کیا تو ہمیں 16 مارچ 2025 کا مجلس علمائے ہند کا مضمون ملا جس میں بتایا گیا ہیکہ مسلم راشٹریہ منچ کے رہنما ڈاکٹر اندریش کمار نے نئی دہلی میں منعقدہ ایک افطار پارٹی میں شرکت کی۔
"اس افطار تقریب میں قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین اقبال سنگھ لالپورہ، کے ساتھ ڈاکٹر شاہد اختر، سینئر صحافی شاہد سعید، جھنڈے والان مندر کے ٹرسٹی رویندر گوئل، حضرت نظام الدین اولیاء درگاہ کے امین سید افسر علی نظامی سمیت مختلف مذہبی اورسماجی تنظیموں کے نمایاں افراد نے شرکت کی۔"
اب چونکہ اس ویڈیو میں ANI کا لوگو شامل ہے تو ہم نے موزوں الفاظ کی مدد سے انٹرنیٹ پر اپنی تلاش جاری رکھی تو ہمیں ANI Bharat کے یوٹیوب چینل پر' Iftar Party में शामिल हुए RSS नेता Indresh Kumar, Dr Umer Ahmed Ilyasi को खुलवाया रोजा | Delhi ' ٹائیل کے ساتھ 16 مارچ 2025 کو پوسٹ کیا گیا ویڈیو ملا۔
مزید تحقیق کے دوران ہمیں دہلی کے اوکھلہ اسمبلی حلقہ کے بی جے پی لیڈر شہزاد علی کی ٹوئیٹ ملی۔ 15 مارچ کے اس پوسٹ میں اندریش کمار کو اسی لباس میں شہزاد کے افراد خانہ کے ساتھ افطار کے پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
پھر ہم نے آر ایس ایس لیڈر کے سوشل میڈیا پروفائیلس پر سرچ کیا۔ اندریش کمار کے فیس بک پیج پر ہمیں دہلی کی افطار پارٹی سے متعلق کئی ایک تصاویر دیکھنے کو ملیں۔
پھر ہم نے ناگپور تشدد کا وقت معلوم کرنے کیلئے گوگل سرچ کیا تو ہمیں اس سلسلے میں کئی ایک نیوز آرٹیکلس ملے۔ 'دی ہندو' کے مطابق، پیر یعنی 17 مارچ 2025 کو قریب 7 بجکر 30 منٹ کے قریب ناگپور کے محل علاقہ میں چیٹنیس پارک کے قریب تشدد پھوٹ پڑا۔ یاد رہے کہ نئی دہلی میں افطار پارٹی ایک دن قبل یعنی 16 مارچ، اتوار کو ہوئی تھی اور اس روز ناگپور میں حالات سازگار تھے۔ لہذا، وائرل پوسٹ میں کیا گیا دعویٰ گمراہ کن پایا گیا۔